شہید سنت ( دوسری شادی )
بسم اللہ الرحمان الرحیم ..
شہید سنت
تحریر:محمدزاھراحتشام
بستی مولویاں ضلع رحیم یارخان
اسلام ایک دین فطرت ہے ..اسلام دنیا کے ہر معاملات میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے چاہے وہ معاملہ خالص دنیاوی ہو یا خالص دینی ہوہر لمحے ہر مقام پر اسلامی تعلیمات موجود ہیں ..
اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو پیدا فرمایا تو اسکی ہر ضرورت کیلے اسکی رہنمائی فرمائی .یہ رہنمائی انبیاء کرام علیہ السلام کے ذریعے کی جاتی رہی ہے .
ہر دور میں اُس دور کے انسانوں کی ضروریات کے مطابق اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کیلے ایک شریعت کی صورت میں قواعد وضوابط مرحمت فرمائے جب تک انسان ان قواعد کی پابندی کرتے رہے اسوقت تک اللہ تبارک کے رحمت دروازے ان پر کھلے رہے اور جب انھوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے انھیں اپنے خاص بندوں کے ذریعے وارننگ دی کہ اللہ کی نافرمانی نہ کروورنہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ..پھر جو لوگ بات مان گئے وہ تو کامیاب ہوگے لیکن جو اپنی بغاوت پر ڈٹے رہے ان پر سخت عذاب آیا اور وہ رہتی دنیا تک عبرت کا نمونہ بن گئے ..اسی طرح ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی اللہ کا پیغام لے کر آئے اور اللہ کا آخری پیغام قرآن مجید کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے ...آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے جتنے بھی پیغام آئے وہ صرف اس دور کے ساتھ خاص تھے جیسے ہی وہ دور گزرا اس پیغام کا کام بھی ختم ہوگیا ..لیکن چونکہ ہمارے پیغمبر آخری پیغمبر ہیں انکے بعد کوئی بھی پیغمبر نہیں آنے والا تو اللہ تبارک وتعالی نے اپناآخری پیغام بہت جامع ومانع کرکے ہم تک پہنچایا .یہ پیغام جو کہ قرآن وسنت کی شکل میں موجود ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے لیکر قیامت تک آنے والے ہر انسان،چرند ،پرند ،درند کیلے راہنمائی موجود ہے .
- اگر اسلام کا کوئی حکم انسانی سمجھ میں آجائے تو اس پر انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر اسلام کا کوئی حکم اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تو اسے اپنی فہم کا قصور سمجھنا چاہیے اسلام کا اس میں کوئی قصور نہیں کیوں کہ اسلام ایک فطری دین ہے اس میں جامعیت ہے کشش ہے اور اسکی فطرت ہر ایک کو متاثر کرنے والی ہے جو انسان عقل وشعور رکھتا ہے اور فطرت سلیم رکھتا ہے وہ اس کی عظمتوں معترف ہوجاتا ہے .
- اسلام میں انسان کی طبیعت ومزاج کا پورا خیال رکھا گیا ہے.انسان کی جو بھی فطری خواہشات ہیں ان سب کا احترام کیا گیا ہے .
- یہ خواہشات کیسے پوری کرنی ہیں انکا طریقہ کار کیا ہے یہ قواعد وضوابط اسلام نے مقرر کردیے ہیں .
- بسااوقات ایسا ہوتا ہےکہ اسلام کا کوئی حکم انسان کو اپنی کم فہمی کی وجہ سے ناگوار گزرتاہے لیکن دراصل وہ انسان کیلے بہتر ہوتا ہے .
- اسلام چونکہ قواعدکے ساتھ زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے اس لیے جو لوگ آزادی نفس چاہتے ہیں اور کسی بھی قانون پر عمل نہیں کرتے وہ اسلام کو اپنی اپنی تنگ نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ اسلام کے قوانین پر اعتراض کرتے ہیں رہتے ہیں .
- جیسے جہاد کا حکم ہے اسے اب دہشتگردی کہا جاتا ہے ..روزے کا حکم ہے اسے انسان پر ظلم کرنے کا کہاجاتاہے .
قربانی اور حج کے حکم کوفضول خرچ کہاجانے لگا ہے اس طرح کے بہت سارے قوانین ہیں جنہیں معترضین اپنی تنگ نظری کی وجہ سے اعتراض کا نشانہ بناتے رہتےہیں ان تمام مسائل میں ایک اہم مسلہ جو آج کل کے زمانے کی اہم ضرورت ہے وہ ہے تعددازواج
جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ "نکاح کرنا میری سنت ہے جس نے اس سے اعراض کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے "
اس حدیث مبارک سے یہ سبق ملتا ہے کہ نکاح انسان کیلے کتنا ضروری ہے ..
سلف صالحین کے زمانے میں جب کسی کے سامنے یہ کہاجاتا کہ یہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو وہ فورا سرخم تسلیم کردیتا تھا نہ کوئی دلیل نہ کوئی اعتراض اس کے زہن میں آتاتھا لیکن چونکہ آج کا دور فتنوں کا دور ہے اس میں حدیث کی اہمیت ہی نہیں رہی ..آج کل مغرب کا پروپگنڈہ اتنا ہے کہ ہم اپنے نظریات وعقائد کو فرسودہ قرار دے چکے ہیں .
اب اگردوسرے نکاح کی بات کریں تو بہت مسائل کھڑے کردیے جاتے ہیں .
سب سے پہلی رکاوٹ مساوات کو قرار دی جاتی ہے .
کہ دوسری تیسری یا چوتھی شادی کی صورت میں بیویوں کے درمیان مساوات نہیں ہوسکے گی اس لیے دوسرا نکاح کریں پھر دوسرے مسلے جیسے نان نفقہ رہائش وغیرہ کے بیان کیے ہیں جاتے ہیں ہم اس مضمون میں ان تمام مسائل انکا حل بیان کریں گے سب سے پہلے ہم مساوات یعنی عدل کو بیان کرتے ہیں عدل کیا ہے اور اور پنی بیویوں کے درمیان عدل کیسے قائم کیا جاسکتا ہے ...
عدل کیا ہے ؟
سب پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر عدل کا نمونہ دیکھنا ہے تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھرویلو زندگی پڑھیں ..بس وہی ہمارے لیے کافی ہے ..
اسکے علاوہ کچھ تفصیلات درج ہیں ...
عدل کا مطلب تو یہ ہے برابری کرنا یعنی اپنی بیویوں کے درمیان مساوات قائم رکھنا ..اگر ایک بیوی کیلے کچھ خرید رہا ہے تو دوسری کیلے بھی لازمی خریدے .ایک کےبچوں کو گھما رہا ہے تو دوسری بیوی سے جو بچےہیں ان پر بھی توجہ دے.دونوں بیویوں کےساتھ برابر اوقات گزارے .انکی باری مقرر کرے .
اللہ تبارک تعالی نے ایک سے زائد نکاح کو عدل کے ساتھ مشروط کردیا ہے یعنی اگر کوئی ایک زائد نکاح کرے گا تو اسے عدل لازمی قائم کرنا ہوگا اور اگر وہ عدل نہیں کرسکتا تو زائد نکاح نہ کرے اب عدل کون قائم کرسکے گا یہ اسکی رائے معتبر ہوگی جو یہ کام کررہا ہے اسے معلوم ہوگا کہ میں اگر ایک سے زائد شادیاں کروں تو عدل کرسکوں گا کہ نہیں .کسی دوسرے بندے کی رائے اس پر ٹھونسا اور اسے ایک سے زائد نکاح سے روکنا جائز نہیں ہے ..
یہ بات بھی سمجھ لیں کہ ایک سے زائد نکاح کو عدل کے ساتھ مشروط کرنا نکاح سے متنفر کرنے والی بات نہیں بلکہ اس میں تو عورتوں کی بہتری ہے کہ شوہر اس پر ظلم نہ کرے اور انکے درمیان عدل کرتا رہے اور انکے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہے.
اس کے علاوہ عدل صرف ایک سے زائد نکاح میں نہیں بلکہ پہلی شادی میں بھی عدل کا حکم ہے کہ اگر ایک ہی بیوی ہے تو اس کے ساتھ بھی عدل کرے .
کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں کہ انکی بیوی بچے موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دیتے اور دوسری عورتوں میں رغبت رکھتے ہیں جب کسی کو یہی خطرہ ہو کہ پہلی بیوی کے ساتھ بھی عدل نہ کرسکے گا تو وہ پہلے نکاح سے بھی اجتناب کرے ..جب یہ صورت حال ہوتی ہے توبیوی بےچاری بہت پریشان رہتی ہے اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتی ہے ..جب پہلی شادی سے ہی ایسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں تو وہ لوگ جو دوسری شادی پر عدل کا واویلا مچاتے ہیں اس وقت کہاں جاتے ہیں ؟ اور دوسری شادی پر عدل کا شور مچانے والے اس وقت کہاں جاتےہیں جب ایک طرف ماں ہوتی ہے تو دوسری طرف بیوی ..اور مرد ماں کو چھوڑ کر بیوی کی طرف داری کرنے لگتا ہے ؟
مرد کیلے تو یہ انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے جب ایک طرف ماں ہے جس نے اسے پالا بچپن میں اسکے ناز اٹھائے اور دوسری وہ بیوی ہے جو اسکے دکھ سکھ کی ساتھی بن چکی ہے ..
ماں اسے اپنا دیکھنا چاہتی ہے اور بیوی اسے اپنے سوا کسی اور کا دیکھنا نہیں چاہتی ..
اب سوال یہی ہے کہ کتنے مردہیں جو یہاں عدل قائم کرسکتے ہیں یا کرتے ہیں ؟
جب ایسی گھمبیر صورت کو مرد کنٹرول کرسکتا ہے تووہ ایک سے زائد شادیاں بھی کرسکتا ہے ..
اسکے علاوہ ہم خانگی معاملات کے علاوہ دوسرے معاملات میں نظر دوڑائیں کہ ہمیں کہاں کہاں عدل کا حکم دیا گیا ہے اور کیا ہم وہاں عدل کر رہے ہیں ؟
مثلا .کھانا پینا عبادت کرنا شریعت کے احکام بجا لانا کیا ہم اس میں کماحقہ عدل کررہے ہیں ؟جب ہم ان معاملات میں پوری طرح عدل نہیں کر رہے تو یہی عدل ہمیں دوسری شادی پر ہی کیوں یاد آجاتا ہے ؟
جب زندگی کے دوسرے معاملات میں عدل نہ کرنےکی وجہ انھیں ترک نہیں کیا جاتا اسی طرح تعددازواج میں بھی کسی ایک کےعمل کو بنیاد بنا کر اس عمل کو ترک نہیں کیا جاسکتا .
مثال سے سمجھیں ...
- جس طرح نکاح کرنا سنت ہے اس طرح تجارت کرنا بھی سنت ہے اور تجارت کے شریعی اصول میں یہ ہے کہ سود نہ ہو جھوٹ بول کرمال فروخت نہ کرو .اب اگر ایک تاجر جھوٹ بول کر مال فروخت کرتا ہے تو کیا ہم تجارت کرنا ہی بند کردیں کہ ہم تو جھوٹ کے بغیر مال فروخت نہیں کرسکتے لہٰذا تجارت چھوڑ دو اب تجارت چھوڑنے سے تاجروں کا نقصان تو ہوگا ہی عوام الناس بھی پریشان ہوجائے گی اس لیے ہمیں تاجر کو بہتر بنانا ہوگا .بلکل یہی مثال تعددازواج کی ہے کہ ایک بندہ عدل نہیں کررہا تو اس عمل چھوڑ نا نہیں چاہیے اس کے ترک کرنے سے بہت سے عورتیں پریشانی میں مبتلاء ہوجاتی ہیں ..
دوسرے نکاح سے بہت عورتوں کو ٹھکانہ مل جاتا ہے معاشرے میں بے حیائی کی مقدار میں واضح کمی آتی ہے ...یہ تو تھا عدل کہ عدل کیا ہے اور کون لوگ کرسکتے ہیں ..
دوسری رکاوٹ غربت کا بہانہ بنایا جاتا ہے ..
جیسے ہی کوئی دوسری شادی کا ارادہ کرتا ہے تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ اس کا خرچ کہاں سے لائیں گے ؟
آپ کے گھر کے افراد کی تعداد بڑھ جائے گی تو خرچ بھی بڑھ جائے گا لہٰذا پہلی بیوی پر ہی اکتفاء کرو ...
جو لوگ ایسا کہتے ہیں ..ان سے یہی عرض ہے کہ آج کے دور میں وہ غربت کہاں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور میں تھی ؟
ان کا تو یہ حال تھا کہ کئی دن تک انکے گھروں میں آگ بھی نہ جلتی تھی بس کھجور اور پانی پر گزارہ کرلیتے تھے لیکن اس غربت کے باوجود ان اصحاب نے متعدد نکاح کیے تھے .
غربت اور تنگدستی کی وجہ سے ان حضرات نے کبھی بھی نکاح کوترک نہیں فرمایا .آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود بھی غربت کی حالت میں نکاح کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کوئی صحابی نکاح کی خواہش کرتا تو آپ اسکی حوصلہ افزائی فرماتے اور اسکے رشتے کیلے انتظام بھی فرماتے.اگر کوئی صحابی فقر فاقہ کی شکایت کرتا یا اس وجہ سے نکاح سے دور رہنے کی کوشش کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکو نکاح کی ترغیب دیتے .اسلام محض غربت کی وجہ سے نکاح سے نہیں روکتا بلکہ نکاح سے تو رزق میں وسعت آتی ہے ..
ارشاد باری تعالی ہے ...
تم میں جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کردیا کرو اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں جو نیک ہوں ان کا بھی اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کردیگا اوراللہ وسعت والا اور خوب جاننے والا ہے (سورۃ النور:32)
اس آیت میں نکاح کرنے کی وجہ سے کشادگی کا وعدہ فرمایا گیا ہے تو نکاح سے غربت نہیں آتی بلکہ نکاح سے تو کشادگی ہوتی ہے ..
چناچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے
"رزق نکاح میں تلاش کرو"(روح المعانی)
اس حدیث میں تو رزق کا ذریعہ ہی نکاح بتایا جارہا ہے ...تو قرآن وحدیث سے ثابت ہوا کہ نکاح سے رزق میں کشادگی آتی ہے تنگی نہیں آتی ہے .
یہ صرف تعددازواج سے متنفر کرنے والے بہانے ہیں ..اور آج کل کی غربت تو بس مصنوعی غربت ہے ہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے لیکن کیا لوگ چیزیں خریدنے باز آجاتے ہیں ؟
آج کل تقریبات میں کھانے پینے کی بے تحاشا چیزیں ضائع کردی جاتی ہیں کیا یہی غربت ہے ؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ آپ تنخواہ ہی کتنی ہے جو دوسری بیوی کا خرچ برداشت کرپاؤ گے ؟
وہ اسی تنخواہ میں گھر کے دوسرے افراد تو پال رہا ہے ایک اور فرد سے کونسی ایسی مصیبت آنے لگی کہ فاقے ہونے لگیں گے ؟
ایک اور حیرت کی بات یہ ہےکہ یہ غربت صرف اپنے حق میں بڑھتی ہے دوسروں کی پرواہ ہوتی ہی نہیں ..اسی مہنگائی کی گھن چکر میں وہ افراد بھی تو پِس رہے ہیں جن کے گھر جوان بیٹی بیٹھی ہے لیکن اس کے نکاح کی استعداد نہیں رکھتا ..اس کی بیٹی کا سہارا بننے کیلے اس سے دوسرانکاح کیاجاسکتاہے..
جس کنواری لڑکی کا باپ نہیں اسکا سہارا کون بنے گا اسکی ماں غربت کی وجہ سے اسکا نکاح نہیں کرسکتی تو اس کا سہارا بننے کیلے دوسرا نکاح کیا جاسکتا ہے ..اس مہنگائی اور بے حسی کے دور میں ایک بیوہ ،ایک غریب باپ کے کاندھوں پر کئی بچیوں کا بوجھ ڈالنے سے تو یہی بہتر ہے کہ ذمہ دار نوجوان دو تین تین چار چار نکاح کریں تاکہ معاشرہ انتشار بے حیائی اور فحاشی سے بچ سکے ..
آج کل فتنوں کا دور ہے اس دور میں جتنا اسلامی احکام پر چلیں گے اتنا زیادہ ثواب ہوگا آج بہت سے سنتیں شہید کردی گئی ہیں سب سنن کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ..
لیکن اگر ہم نے معاشرے کو پاکزہ بنانا ہے اپنی نسل نو کی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں اس "شہید سنت"(تعددازواج )کا احیاء کرنا ہوگا
.jpeg)
Comments
Post a Comment